مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے انتظام میں رہے گی اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایرانی انتظامات کے تحت چلایا جائے گا۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات سے واپسی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ عسکری اور سفارتی میدان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مذاکرات دراصل جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ ان کے بقول، عسکری میدان سفارت کاری کے لیے وہ حالات فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے انہی اہداف کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کا حالیہ دورہ اور چار فریقی مذاکرات بھی عسکری محاذ کے مقاصد کے عین مطابق تھے اور مسلح افواج اور سفارتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہے۔
قالیباف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کی نرم اور سخت قوت کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔ معاہدے کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز اسی رات سے آزاد ہوگی، حالانکہ معاہدے کی شق نمبر چار کے مطابق اسے 30 روز کے اندر ایران کی شرائط کے تحت کھولا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے مذاکرات کے دوران منجمد ایرانی اثاثے بحال اور تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بھی حتمی شکل دی گئی۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق، سوئس مذاکرات کے تحت ایران اور امریکہ دونوں لبنان کی علاقائی سالمیت کی ضمانت دینے کے پابند ہوں گے۔ اگر ایران ان مذاکرات میں شریک نہ ہوتا تو لبنان کے مسلمانوں اور شیعوں کا مزید خون بہتا۔
قالیباف نے زور دے کر کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورت حال میں واپس نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق، آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ایران کے انتظام میں رہے گی اور اس کے انتظامی امور ایرانی طریقہ کار کے مطابق چلائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک رابطہ مرکز اور مواصلاتی لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بحری حادثے یا مسئلے کو 30 روزہ مدت کے اندر زیادہ تیزی سے حل کیا جا سکے۔
قالیباف نے کہا کہ یہ رابطہ لائن ایران سے اجازت لینے کے لیے نہیں بلکہ ممکنہ واقعات اور جہازوں سے متعلق مسائل کے فوری حل اور وضاحت کے لیے قائم کی جارہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے پاس ہوگا اور تمام مسائل کا حل بھی ایران ہی فراہم کرے گا۔
آپ کا تبصرہ